Wednesday, January 30, 2019

سفرنامہ برائے استنبول ترکی - چوتھی قسط



اسی جگہ سیاحوں کو شاپر بیگ دیے جاتے ہیں جس میں وہ اپنے جوتے محفوظ کر سکتے ہیں - لکڑی کی الماریاں بھی موجود ہیں جہاں آپ جوتے رکھ سکتے ہیں- ہم نے احتیاطاً جوتے ساتھ لے لیے ویسے جوتا چھپائی یا جوتا چرائی کے امکانات کافی کم ہیں۔

آیئں اب اندرونی حصّے کی طرف بڑھتے ہیں -
-
مسجد الحرام ( مکہ ) کی طرز پہ خواتین کے لئے اندرونی ہال میں الگ حصّہ بنایا گیا ہے - یہ مخصوص حصّہ آپ کو ہال میں داخل ہوتے ہی دائیں اور بائیں جانب نظر آیے گا - درجنوں خواتین آپ کو عبادت میں مصروف نظر آیئں گی - بچے اپنی دھن میں مست اپنی ماؤں کو ستانے اور کھیلنے میں مصروف تھے - چونکہ ابھی نماز میں کچھ وقت تھا اس لیے کچھ خواتین خوش گپیوں میں بھی مصروف تھیں اورکچھ اپنے بچے " ہنس" بند ، جسے انگریزی میں Husband کہتے ہیں، کو تھما کر سکون کا سانس لے رہیں تھیں - خواتین اور بچوں کا حصّہ اس وسیع و عریض ھال کے شروع میں بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ دوران نماز بچوں کے رونے یا شور شرابے کی آواز اگلی صفوں تک نہ پہنچے - تاہم ایسا ہو بھی جائے تو کوئی آدم بیزار بابا جی بچے کو ہاتھ سے جھنجھوڑتے ہوۓ یہ نہیں کہیں گے چلو پچھلی صفوں میں-

گھروں کے اندر کہاں اتنی جگہ ہوتی ہے کہ بچے اودھم مچا سکیں - لہٰذا مساجد کے کشادہ ہال دیکھتے ہی بچوں کی کھیل کود کی فطرت جاگ اٹھتی ہے-

ھال میں داخل ہوتے ہی آپ اس کی وسعت کے سحر میں جکڑے جاتے ہیں -بہت سے چھوٹے چھوٹے ہالز کے بجاے ایک ہی وسیح اور کشادہ ہال ہے جس میں کچھ چھوٹے ستون کے ساتھ چار مرکزی ستون ہیں - مگر کیا کہنے اس کے ڈیزائن کے - آپ ہال میں کہیں بھی بیٹھے ہوں آپ کو ممبر اور امام صاحب کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی- مسجد کی وسعت ، صفائی اور پاکیزگی اپنی جگہ---مگر حیرانی کی بات اس سکون میں تھی جیسا سکون اپنے گھر میں ملتا ہے - نہ کوئی احساس ندامت اور نہ نار جہنم کا کوئی خوف۔ شائد یہ اثر وسعت کا ہی ہو۔ ویسے بھی مسجد تو الله کا گھر ہے اور انسان سکون کی تلاش میں ادھر اتا ہے - مگر بہر حال مسجد کی طرز تعمیر کا بھی اپنا اثر ہوتا ہے -

فضا میں بکھری یہ سکون کی کرنیں آپ کے وجود کو روشن کر دیتی ہیں - نظرکبھی ھال کے درمیان میں موجود بے شمار قمقوموں سے سجے فانوس کی جانب پڑتی ہے تو کبھی مسجد کا مرکزی اور پرہیبت گنبد اپ کی تمام تر توجہ کھینچ لیتا ہے -

جیسے ہی آپ کی نظر مرکزی گنبد اورھال کے بڑے بڑے ستونوں پہ پڑتی ہے تو یہ راز آپ پر افشاں ہو جاتا ہے کہ سلطان احمت مسجد کو بلیو مسجد کیوں کہا جاتا ہے-ہزاروں کی تعداد میں لگی خوشنما اور دیدہ زیب نیلی ٹائلیں اس نام کی بنیادی وجہ ہیں - یہ نیلا رنگ آپ کو کھڑکیوں کے شیشوں پے بھی نظر آئے گا جہاں سے آتی قدرتی روشنی مسجد کے اس پر شکوہ ھال کو روشن رکھتی ہے۔ مرکزی کمرے پر کئی گنبد ہیں جن کے درمیان میں مرکزی گنبد واقع ہے جس کا قطر 33 میٹر اور بلندی 43 میٹر ہے۔ ھال میں ہاتھ سے بنی ہوئی 20,000 سے زیادہ ٹائلیں استعمال ہوئی ہیں جو کے ترک قصبے ازنک (Iznik) میں تیار کی گیی ہیں. یہ قصبہ 16اور 17 ویں صدی میں ٹائلوں اور مٹی کے برتنوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا - ھال میں 250 سے زیادہ کھڑکیاں اور ان پر کی گئی نقش نگاری قابل ستائش ہیں. مسجد کے اندر اپنے وقت کے عظیم ترین خطاط سید قاسم غباری نے قرآن مجید کی آیات کی خطاطی کی۔

خواتین والے حصّے سے آگے بڑھیں تو کچھ ہی آگے لکڑی کا ایک جنگلا دکھے گا - یہ وہ مقام ہے جس کے آگے دوران نماز غیر مسلم سیاحوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے - یہاں آپ کو 2-4 باوردی گارڈ نظر آئے گے جن کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کے نماز کے اوقات میں غیر مسلم سیاح یہاں سے آگے نہ جائیں - جنگلے سے پیچھے آپ کو سیاحوں کی بڑی تعداد مسجد کی خوبصورتی کے منظر میں کھوے ہوۓ ملے گی - کوئی تصاویر بنانے میں مصروف تو کوئی ویڈیو کی شکل میں اپنی یادیں سمیٹتے نظر آیے گا - کچھ سیاح طریقہ نماز کے قریبی مشاہدے میں مصروف نظر آیئں گے

عصر کا وقت نکلا جا رہا تھا۔ وہیں ھال میں ہی نماز ادا کی۔ جو لوگ اللہ والے ہوتے ہیں اور نماز یکسوئی سے پڑھتے ہیں۔ ان کا اللہ سے تعلق اتنا گہرا ہوتا ہے کی انہیں ہوش ہی نہی ہوتا کہ وہ کس جگہ نماز ادا کر رہے۔ ہم تو دنیا دار لوگ ہیں گھر میں نماز پڑھیں مسجد میں روضہ رسول پر یا پھر خانہ کعبہ کے عین سامنے ہر جگہ دل کی کیفیت مختلف پائ۔ نماز سے فارغ ہو کر کچھ وقت وہیں بیٹھے رہےاور سکون میں ڈوبے رہے یا یوں کہہ لیں کہ اٹھنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ نبی پاک کی حدیث یاد آ رہی ہے جس کا مفہوم ہے "مومن مسجد میں سکون پاتا ہے"۔ 
میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بھی کیا وقت ہو گا جب سلطنت عثمانیہ تین براعظموں کے بادشاہ شان وشوکت سے مسجد میں آتے ہوں گے اور اپنی بادشاہت کو مسجد کے دروازے پر چھوڑ کر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں آتے ہوں گے اور اللہ کے حضور جھکتے ہوں گے۔ وقت بھی کیا چیز ہے۔ سینکڑوں سالوں سے یہاں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ مسجد یہاں موجود ہے۔ نہ صرف یہ مسجد بلکہ یہاں کی ہر چیز جیسے بادشاہوں کے محل سمندر پہاڑ الغرض ہر چیز اشرف المخلوقات انسان کے لیے ہی بنائ گئی اور انسان ہی سب سے ناپائیدار مخلوق ہے۔ اللہ کی اللہ ہی جانے۔

مسجد کے ہر مینار پر تین چھجے ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک مؤذن اس مینار پر چڑھ کر پانچوں وقت نماز کے لیے اہل ایمان کو پکارتے تھے۔ آج کل اس کی جگہ صوتی نظام استعمال کیا جاتا ہے جس کی آوازیں قدیم شہر کے ہر گلی کوچے میں سنی جاتی ہے۔ نماز مغرب پر یہاں مقامی باشندوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوتی ہے۔ رات کے وقت رنگین برقی قمقمے اس عظیم مسجد کے جاہ و جلال میں مزید اضافہ کرتے ہیں....


یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے بتاتے چلیں کہ پاکستان سے قبلہ کا رخ مغرب کی طرف ہے جبکہ ترکی سے قبلہ جنوب کی طرف ہے۔ ہم مسجد کے مشرقی دروازے سے باہر آئے تو سامنے جو عمارت نظر آئی اسے Hagia Sophia جسے ترکی میں آیا صوفیہ کہتے ہیں۔ سبزہ زاروں اور درختوں کے خوبصورت حلقوں کے بیچوں بیچ بنے راستوں سے ہوتے ہوۓ ہم درمیانی پارک میں پہنچے راستے کے دونوں اطراف کوئی مونگ پھلی بیچ رہا تھا تو کوئی چھلی پر لیموں لگا لگا کر گوروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا - کوئی خوبصورت پورٹریٹ بنا بنا کر اپنے فن کی نمائش میں مصروف تھا تو کوئی بلیو مسجد کے دیدہ زیب برقی قمقموں سے سجے ماڈل بیچ رہا تھا - کہیں عطر فروش خوشبو بکھیر رہا تھا تو کہیں Ray Ban کے اسٹال نوجوان طبقے کو لبھا رہے تھے - اور تو اور قیمتی اور مہنگے Designer Brands کی ٹی شرٹس بھی " رعائتی نرخوں" پر دستیاب تھیں -

ہمارے سامنے اور پیچھے دو عظیم الشان عمارتیں تھیں - اونچی ، ٹھوس اور اسلامی اسلوب تعمیر کا شاھکار یہ دونوں عمارتیں پہلی نظر میں انسان کو مبہوت کر دیتی ہیں - بڑے بڑے گنبد اور پنسل جیسے باریک میناروں والی یہ دونوں عمارتیں پہلی نظر میں ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں - دونوں عمارتیں ایک دوسرے سے چار سے پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر ہوں گی اور ان کے درمیان میں جو پارک ہے اسے سلطان احمت پارک کہتے ہیں -انواع و اقسام کے درختوں اور سبزے سے سجا یہ پارک ہمیشہ سیاحوں سے بھرا رہتا ہے - یہاں کھجور کے درخت نمایاں ہیں - عین وسط میں ایک بڑا سا فوارہ ہے۔ اس فوارے سے نکلتا پانی اس جگہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا- فوارے سے اچھلنے والے پانی سے ہوا میں نمی کی وجہ سے ہوا مزید ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی -

ہم یہاں ایک بینچ پر بیٹھ گئے اور ایک دلکش شام کو انجوائے کرنے لگے۔ پاس ہی چائے کا اسٹال تھا۔ چائے پینا سب سے اچھی آپشن تھی۔ دوددھ والی چائے کا یہاں کوئ تصور نہیں۔ استنبول کے قیام کے دوران بلیک ٹی ہی پیتے رہے۔


جگہ جگہ لکڑی کے بینچ نصب تھے جس پر بیٹھے سیاح ان مناظر کی خوبصورتی کے مزے لوٹ رہے تھے - اگر آپ سورج ڈھلنے کے قریب اس جگہ آجائیں تو آپ گھنٹوں یہاں سے ہل نہیں سکیں گے - رات کے وقت ان دونوں عمارتوں کا طلسم اور آس پاس کے علاقے کی خوبصورتی اپ کو اپنے سحر میں جکڑ لے گی۔

یہ چوراہا سیاحوں سے ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔ صبح سے لے کر رات دیر گئے تک یہاں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہاں موجود سیاحوں میں ہر طرح کا سیاح نظر آتا ہے، حِجاب اور شرعی نقاب سے لے کر، مِنی اسکرٹ تک ہر قسم کا لباس پہنے لوگ مشرق و مغرب کے اس سنگم کی کہانی کہتے نظر آتے ہیں۔

یہاں کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ کوئی کسی پر آوازے نہیں کَستا، کسی کا لباس دیکھ کر دفعہ دور نہیں کرتا، ہاں اتنے بڑے شہر میں اتنی زیادہ سیاحتی آبادی والی جگہ پر ہر نظر پر پہرہ تو نہیں بِٹھایا جاسکتا، گُھورنے والے تو یورپ کی ننگ دھڑنگ گلیوں میں بھی نگاہیں سینکنے سے باز نہیں آتے تو ایسوں کا شمار کیا، لیکن مجموعی طور پر ایک پُرامن، اخلاقی تقاضوں سے بھرپور فضاء آپ کو ایک اسلامی شہر کے منصفانہ مزاج سے متاثر کرتی ہے۔

اگلی قسط میں گرینڈ بازار کی سیر کرواؤں گا -
زندگی اور صحت رہی تو جلد ملاقات ہو گی -

آپ سے التماس ہے کہ اس سفرنامہ کو اپنے دوست احباب سے بھی شئیر کریں خاص کر جنھیں استنبول دیکھنے کا شوق ہو اور جنھیں سیر و سیاحت میں دلچسپی ہو -

#ساجدچوہدری 

Monday, January 28, 2019

سفرنامہ برائے استنبول ترکی - تیسری قسط

 Turkey Ambassador in urdu

ہم جس ٹیکسی میں بیٹھے تھے یہ اپنے کام میں ماہر بھی تھا اور تیز بھی۔ اس کے بس میں ہوتا تو گاڑی کو اڑا ہی دیتا ہم نے اسے گاڑی آہستہ چلانے کا کہا مگر یہاں بھی وہی معاملہ ڈرائیور سے انگلش میں بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا- مگر پھر بھی ہم نے یہ بین بجانے کی کوشش کی کہ کسی طرح ڈرائیور حضرت ٹیکسی کی رفتار کم کر دیں-" مگر رفتار بڑھتی گئ- سڑک پر اچانک ٹریفک نظر آیی تو کچھ تسلی ہوئی کہ اب اس کی رفتار کم ہو جائیں گی مگر یہ کیا - یہ صاحب تو مکمل کرتب بازی کے موڈ میں تھے- اوور ٹیک کے ایسے ایسے کمالات دیکھنے کو ملے کہ ہمیں یقین ہو چلا کہ یہ بندہ ضرور Michael Schumacher کا سابقہ کوچ رہا ہو گا- ورنہ اتنی مہارت سے اتنی ٹریفک میں سے نکلنا اتنا آسان نہ تھا۔ آدھا سفر گزر چکا لہٰذا فیصلہ کیا کے کیوں نہ باقی کا سفر " Enjoy" کیا جائے- آخر کو ایسا ماہر ڈرائیور روز روز کہاں ملتا ہے-

ترکی کی مساجد کے بارے بتاتا چلوں کہ تمام مساجد ایک جیسی ہی دکھتی ہیں - آپ استنبول کے کسی بھی حصے میں موجود ہوں اور اپنی مدد آپ کے تحت بلیو مسجد کی تلاش میں نکلے ہوں تو جناب ہر چند سو گز کے فاصلے پرآپ کو مسجد ملے گی- ایک جیسا طرز تعمیر، محرابیں ، گنبد اور سب سے بڑھ کے بالکل ایک جیسے دکھتے مینار -لہٰذا ہمیں گاڑی سے جب بھی کوئ مسجد نظر آتی تو گمان ہوتا ہے کہ بس یہی بلیو مسجد ہے - ویسے بھی مجھ سمیت زیادہ تر سیاح جب پہلی بار استنبول آتے ہیں تو سب سے زیادہ اشتیاق بلیو مسجد کو دیکھنے کا ہی ہوتا ہے - ایسے میں جو بھی مسجد نظر آتی ہے وہ بلیو مسجد ہی لگتی ہے - تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ استنبول شہر میں 3000 سے زائد مساجد ہیں - سبحان الله - ایسے میں قدم قدم پہ مسجد کا مل جانا کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی -

گاڑی ساحلی سڑک سے ہوتی ہوئ اولڈ سٹی میں داخل ہو گئ عمارتیں پرانی مگر پختہ تھیں سڑک کافی تنگ تھی کئی خطرناک اور بلائنڈ ٹرن لیے یہی ڈر لگ رہا تھا کہ کوئ گاڑی سامنے سے نہ آ جائے۔ ڈرائیور یقیناً ہمیں کسی شارٹ کٹ راستے سے لایا تھا یا پھر ٹریفک سے بچتا بچاتا آیا تھا۔ اللہ اللہ کر کے با حفاظت منزل مقصود پر پہنچ گئے- ٹیکسی سے اتر کر جب ہم نے کرایہ ڈرائیور کا ہاتھ میں دیا تو ساتھ ہی اس کو Thumbs UP کے ذریعے بتایا کہ اس کی ڈرائیونگ سے ہم خوب لطف اندوز ہوۓ -
آپ کو جب کبھی بھی ترکی جانے کا اتفاق ہو تو ٹیکسی میں دیکھ بھال کر بیٹھیں اور " گاڑی آہستہ چلاؤ" کا ترکی ترجمہ احتیاطا اپنے پاس رکھ لیں 🙂

یہ علاقہ سلطان احمد (احمت) ڈسٹرکٹ ہے۔ جو استنبول کا بڑا سیاحتی مرکز ہےاور تمام اہم ٹورسٹ اٹریکشنز جیسے کہ بلیو مسجد۔ آیا صوفیہ (Hagia Sophia) توپ کاپی محل۔ گرینڈ بازار اور سپائس بازار وغیرہ قریب قریب ہی واقع ہیں۔ یہاں بہت سے ہوٹل بھی موجود ہیں۔ اگر آپ استنبول آنا چاہتے ہیں تو ہوٹل بک کرتے وقت اس بات کو ضرور مد نظر رکھیں کہ اسی علاقے کا کوئ ہوٹل لیں اور گوگل میپ کا استعمال بھی سیکھ لیں وہ بہت مدد دے گا ورنہ گواچی گاں (اپنے ریوڑ سے بچھڑنے والی گائے) کی طرح ادھر ادھر منہ اٹھائے پھریں گے اور لوگوں سے پوچھتے پھریں گے

گوگل سے یاد آیا کہ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ یہ بحث زبان زد عام تھی کہ گوگل کا شمار مذکر میں ہونا چاہے یا مونث میں- اکثریت نے اس بات پہ اتفاق کیا گوگل کا شمار صنف نازک میں کرنا ہی دانش مندی ہے - منطق پوچھی گئی تو بات دل کو چھو گی کہ صاحب بات مکمل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا اور مشورے پہلے سے آنا شروع ہو جاتے ہیں - :) اور ایک پوچھو تو دس بتاتا ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر مساجد کے ایک یا دو مینار ہوتے ہیں مگر ترک مساجد اس لحاظ سےبھی مختلف ہیں - بلیو مسجد کے 6 مینار ہیں جو اسے باقی مساجد سے ممتاز بناتی ہیں - ان میناروں کے بارے میں بڑی دلچسپ روایات موجود ہیں - کہا جاتا ہے کہ سلطان احمد (احمت ) نے جب اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تو ماہر تعمیرات کو سونے کے مینار بنانے کو کہا - ترک زبان میں سونے کو Altin کہتے ہیں - ماہر تعمیرات اسے Alti سمجھا جس کا مطلب ترکی میں چھ ہے اور یوں مسجد 6 میناروں کے ساتھ تعمیر ہوئی - میناروں کی تعداد کی وجہ سے بہت شور شرابہ ہوا -اس زمانے میں صرف المسجد الحرام ( مکّہ ) واحد مسجد تھی جس کے 6 مینار تھے - مسلمانوں کے لئے مسجد الحرام سے بڑھ کے کسی اور مسجد کی حرمت نہیں لہٰذا جب یہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا تو سلطان احمد نے اپنے ماہر تعمیرات کو مکہ روانہ کیا اور مسجد الحرام میں ساتواں مینار تعمیر کروایا -
اس طرح مسجد بیت الحرام کا ساتواں مینار تعمیر کروانے سے سلطان مسجد کے چھ میناروں والا تضاد نہایت خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ یہ واقعہ سلطان کی عاجزی اور غیر معمولی ذہانت کا عکاس ہے۔

سلطان احمد آیا صوفیہ (تفصیل بعد میں بتاؤں گا) کے مقابلے پر ایسی عبادت گاہ تعمیر کروانا چاہتے تھے جہاں مسلمان نماز پڑھ سکیں - اس وقت سلطان کی عمر 19برسا تھی - مسجد کی تعمیر جلد سے جلد ختم ہو اسی لئے بعض اوقات سلطان خود اس مسجد کی تعمیر میں حصّہ لیتے - مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے ایک سال بعد سلطان 27 سال کی عمر میں انتقال کر گئے مگر آج یہ عظیم الشان مسجد آیا صوفیہ کے سامنے کھڑی ہے اور دنیا بھر سے روزانہ لاکھوں افراد اسے دیکھنے آتے ہیں اور ان دو عمارتوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں -

استنبول (اور ترکی کے باقی شہروں) میں تمام مساجد کے مینار کم و بیش پنسل نما اور باریک شکل کے ہی ہیں- بلیو مسجد کے علاوہ ترکی میں صرف ایک اور مسجد ایسی ہے جس کے چھ مینار ہیں - یہ مسجد ترک شہر Adana میں ہے اور اس کا نام Sabancı Central Mosque ہے -میناروں میں مماثلت کے علاوہ بھی یہ مساجد دیکھنے میں ایک جیسی ہیں - آپ کو یہ جان کر شائد حیرت ہو گی کہ ترکی کی سب سے بڑی مسجد Blue Mosque نہیں بلکہ Sabancı Central Mosque ہے- Blue Mosque کو پہلی نظر میں دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بڑی مسجد استبول میں اور کہاں ہو سکتی ہے - مگر سچ یہ ہے کہ استبول میں بلیو مسجد سے بھی بڑی ایک مسجد ہے جس کا نام سلیمانیہ مسجد ہے - یہ استنبول شہر کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے - بد قسمتی رہی کہ استنبول میں گزارے ہوۓ تین دنوں میں ہم سلیمانیہ مسجد نہ دیکھ سکے - زندگی رہی تو انشااللہ اگلی بار ضرور دیکھیں گے - سلیمانیہ مسجد شاہ سلیمان نے تعمیر کروائی تھی - مسجد 1550 سے 1558 تک تعمیر ہوئی اور اس کے 4 مینار ہیں -

بلیو مسجد کا ترکی نام (Sultanahmet Cami) ہے۔ آپ میپ میں جہاں بھی مسجد دیکھیں گے ساتھ Camii لکھا ہو نظر آئے گا۔ Camii مطلب جامع ترکی میں جیم کو c سے پڑھا جاتا ہے جیسے مثال کے طور پر مشہور ناول جنت کے پتے کے کردار جیہان کو chian پڑھا جاتا ہے۔
یہ مسجد سلطان احمد اول کی طرف سے سن 1609 تا 1616 کے درمیانی عرصے میں معمار صدف کار محمد آغا کی جانب سے تعمیر کی گئی۔ اس مسجد میں ، مدرسہ، دارالقرعہ، پرائمری اسکول، مقبرہ، بند مارکیٹ، دکانیں، حمام، دارلشفاء، لنگر خانہ اور تین سبیلیں موجود ہیں۔

استنبول پہاڑی علاقہ ہے۔ اوپر نیچے، کھائی اور بلندی پر مشتمل ہے۔ اس کا محل وقوع بھی عجیب و غریب ہے۔ قدیم استنبول پورا پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔ چھوٹی چھوٹی گلیاں ہیں۔ جہاں ٹیکسی نے ہمیں چھوڑا تھا یہاں پر بلیو مسجد ہونے کے کوئ آثار نظر نہی آ رہے تھے۔ گوگل میپ کو فالو کرتے ہوئے دوتین گلیاں پار کیں اور بلیو مسجد کے مینار دکھایی دیئے مگر ابھی کافی چڑھائی باقی تھی - پھولتی سانس کے ساتھ آخر کار ایک سیدھی سڑک پر پہنچے جہاں سیاحوں کے ایک جم غفیر دیکھ کر ہمیں اندازہ ھو گیا کہ منزل اب دور نہیں- بلیو مسجد تک پہنچنے کے کافی راستے ہیں - آپ کس علاقے سے آرہے ہیں ہیں، یہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آپ بلیو مسجد کی کس سمت سے اندر داخل ہونگے - آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بلیو مسجد کو تو دیکھتے ہی پہچان جانا چاہیے تھا کیونکہ اپنے نام کی مناسبت سے یہ دیکھنے میں نیلے رنگ کی ہوگی - تو جناب ایسا ہرگز نہیں ہے- یہ راز اس وقت افشاں ہوتا ہے جب آپ مسجد کے بیرونی نہیں بلکہ اندورنی حصّے کو دیکھتے ہیں - بیرونی حصّے پر نیلے رنگ کے کوئی آثار نہیں - جیسے ہی آپ مسجد کے وسیح احاطہ سے گزر کر مسجد کے اندر داخل ہوں گے ، گنبد اور اس کے اندرونی حصّے پر لگی دلکش نیلی ٹائلیں دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اسے بلیو مسجد کیوں کہا جاتا ہے -

عیسائیوں کے سب سے بڑے پیشوا پوپ آف روم بینی ڈکٹ نے بھی 30نومبر 2006ء کو اس مسجد کی زیارت کی۔ 
تاریخ میں یہ دوسرا پوپ تھا جس نے مسلمانوں کی اس عظیم مسجد کی زیارت کی۔ پوپ اپنے جوتے اتار کر مسجد کے داخلی دروازے کے پاس احتراماً آنکھیں بند کیے2منٹ تک خاموشی سے کھڑا رہا۔ جبکہ اس کے برابر مسلمانو ں کے وقت کے مفتی اور امام مصطفی ساتھ کھڑے تھے۔ پوپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ترکی مشرق و مغرب کے درمیان عظیم دوستی کا ایک پل ثابت ہوگا۔ امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما بھی اپنے ترکی کے دورے کے دوران7اپریل 2009ء میں اس مسجد کو دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ اس وقت ان کے ساتھ ترکی کے موجودہ وزیراعظم طیب اردوغان بھی تھے
کہتے ہیں1609ء میں جب سلطان احمد نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا تو سلطان نے اس وقت خلوص دل سے یہ تاریخی دعا کی ’’اے اللہ اپنے بندے کی یہ بندگی قبول فرما‘‘ اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ رب العزّت نے اپنے بندے کی اس دعا کو یقینا شرف قبولیت سے نوازا ہوگا۔ 
تعمیر کی چار صدیاں گزرنے کے باوجود بھی یہ مسجد اب بھی دنیا کی 17ویں بڑی مسجد ہے

بلیو مسجد داخل ہونے سے پہلے ہم نے صاف شفاف وضو خانے میں وضو کیا- یہ وضو خانے مسجد کی مرکزی سیڑھیوں سے پہلے بناے گئے ہیں اور ان کی صفایی ستھرایی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی - کھلی فضا میں وضو سے فارغ ہو کر انسان جب آسمان کی جانب دیکھ کر الله کی وحدانیت کی گواھی دیتا ہے اور عین اسی وقت ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا آپ کے ظاہری اور باطنی وجود کو تر و تازہ کر دے تو انسان سبحان الله کہے بغیر نہیں رہ سکتا - تھوڑی دیر ووہیں کھڑے رہ کر اس کیفیت کا لطف لیتا رہا اور گمان کرتا رہا کہ یہ یقینا جنتی ہوا کا جھونکا ہی ہو سکتا ہے

مرکزی دروازہ بہت بلند اور اوپر سنہری کلمہ ماتھے پر جھومر کی طرح اس کی شان بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے۔ مرکزی سیڑھیاں دیکھنے میں بادشاہی مسجد لاہور کی سیڑھیوں جیسی تھیں - تعداد میں البتہ کم تھیں - سیڑھیاں ختم ہوتے ہی آپ مسجد کے وسیع احاطے میں داخل ہو جاتے ہیں - احاطے کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سے مسدسی شکل کا فوارہ ہے - احاطے میں خوب چہل پہل تھی -بڑی تعداد میں سیاح مسجد کے احاطے میں فوٹوگرافی میں مصروف تھے - جنھیں کسی کی مدد میسر نہ تھی وہ " سیلفی " لے کر کام چلا رہے تھے -

احاطے کے چاروں اطراف خوبصورت چھوٹے گنبد اور ان کو سہارا دیے محرابی ستون اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے - مسجد کے مرکزی ہال کے داخلی راستے کے دونوں اطراف انتظامیہ کے لوگ موجود تھے جو مسلم اور غیر مسلم سیاحوں کی رہنمایی کر رہے تھے - مسجد کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ غیر مسلم خواتین کو سکارف اور چادریں دی جاتی ہیں جنہیں اوڑھ کر وہ مسجد کے اندرونی ہال ، جہاں نماز ادا کی جاتی ہے ، میں جا سکتی ہیں- درجنوں کے حساب سے گوریاں اپنے مغربی لباس کے اوپر اِن چادروں کو اوڑھتی ہیں اور اپنی اسلامی شناخت کی ایک سیلفی کھینچتے نظر آتی ہیں۔ سچ پوچھیے تو اہلِ ترکی کی اِس ادا پر ہی مجھے بے حد پیار آیا، میں نے ایسے بے شمار چہرے پڑھے، جنہوں نے شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اِس نقطہ نظر سے خود کو ڈھانپا ہوگا

قابل ستائش بات یہ ہے کہ زیادہ تر غیر مسلم ٹورسٹ مسجد کے Dress Code سے واقف ہوتے ہیں - دنیا بھر میں مساجد کی بڑھتی تعداد اور ان کی خوبصورتی جس طرح سے غیر مسلم ٹورسٹ کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے وہیں ان مساجد پر موجود معلومات اور آن لائن گائیڈ اس بات کی آگاہی بھی مہیا کرتی ہیں کہ مسجد کے آداب کیا ہیں ، ان کی حرمت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے اور یہاں کن باتوں سے اجتناب کرنا چاہے۔

استنبول کی مساجد میں ہم نے ایک بات نوٹ کی کہ یہاں مساجد کے دروازے سب کے لیئے کھلے ہیں کوئ کسی کو نہیں روکتا کہ کوئ مسلمان ہو غیر مسلم ہو گورا ہو کالا ہو مساجد اللہ کا گھر ہوتی ہیں اور اس میں آنے والے اللہ کے مہمان۔ مجھے نبی پاکﷺ کے دور کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب نجران کا عیسائ وفد نبی پاکﷺ سے مذاکرات کرنے آیا تو آپ نے انہیں نہ صرف مسجد نبوی میں ٹھرایا بلکہ انہوں نے مسجد میں اپنی عبادت بھی کی۔ آج ہم اپنے ملک میں دیکھیں تو بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے جب ممبر سے اپنے مسلک کے دفاع کے لیے چیخ چیخ کر دلائل دیے جاتے ہیں۔ مساجد تو اللہ کا گھر ہوتی ہیں جبکہ یہ مسالک کی اماج گاہ بن چکی ہیں۔ اسلام تو امن و سلامتی کا دین ہے۔ اور اس میں کوئ بھی آ سکتا ہے تو پھر جو آ چکے ہیں ہم ان کو ہی دین سے نکالنے کے درپے کیوں ہو جاتے ہیں۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسجد کے دروازے پر بورڈ لگا دیے جاتے ہیں کہ یہاں دوسرے مسلک کا داخلہ ممنوع ہے۔ اسلام تو امن محبت رواداری بھائ چارے اور محبت کا دین ہے ہم نے اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے (آمین)

وقت تھا مسجد کے حال میں داخل ہونے کا -اس عالی شان تخلیق کو حقیقت میں دیکھنے کا لمحہ بس قریب ہی تھا- اگلی قسط میں آپ کو اندرونی ہال کی سیر کرواؤں گا -
زندگی اور صحت رہی تو جلد ملاقات ہو گی -

آپ سے التماس ہے کہ اس سفرنامہ کو اپنے دوست احباب سے بھی شئیر کریں خاص کر جنھیں استنبول دیکھنے کا شوق ہو اور جنھیں سیر و سیاحت میں دلچسپی ہو -

سفرنامہ برائے استنبول ترکی - دوسری قسط

سفر نامہ ترکی - Travel in Turkey guide - safarnama

دوسری قسط کے ساتھ حاضر ہوں۔ سب سے پہلے تو بہت شکریہ پسند کرنے کا۔ کچھ دوستوں نے پوچھا کہ یہ اقتباس کس کتاب سے لیا ہے ہم وہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے آخر میں اپنا نام بھی لکھ دیا۔

ائیرپورٹ سے ہی ضرورت کے لیے کرنسی چینج کروائی اور لیرا خریدے۔ ائیرپورٹ سے کرنسی چینچ کروانا اچھی آپشن نہی کیونکہ ریٹ اچھا نہیں ملتا۔ ایک موقع پر بڑی پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کا ذکر آئیندہ کسی موقع پر کروں گا۔ ڈیٹا پیکج والی موبائل سم خریدی اور اوبر بک کی. تھوڑی دیر میں ہی گاڑی موجود تھی۔ سامان گاڑی میں رکھا. ڈرائیور ایک سمارٹ نوجوان تھا. میرے حصہ میں فرنٹ سیٹ آئ۔ میں نے اس کا انٹرویو لینا چاہا لیکن مایوسی ہوی کہ اس نے
" Only Turkish "
کہا۔ اس جواب سے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ صاحب انگلش میں نہ صرف فارغ ہیں بلکہ انگلش سننے کا بھی ان کا کوئی ارادہ نہیں- یہ پرابلم آپ کو ترکی میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا- ترکی ایک مصروف ترین ٹورسٹ جگہ بن چکا ہے مگر اس کے باوجود انگلش بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد کافی کم ہے-

ائیر پورٹ سے باہر آئے تو شہر کا پہلا امپریشن ہی شاندار تھا صاف ستھرا شہر کھلی کھلی سڑکیں۔ اور گھنا سبزہ۔ گاڑی استنبول کی سڑکوں پر رواں دواں تھی. سڑکیں اور انفراسٹرکچر شاندار تھا. یہاں بھی گاڑیاں عرب ممالک کی طرح لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہیں.استنبول کا ٹرانسپورٹ سسٹم دنیا کے کسی بھی بڑے اور ترقی یافتہ ملک کے ہم پلہ ہے ۔یہ انڈر گراؤنڈ ریلوے ، میٹرو، چھوٹی بڑ ی بسوں اور سمندری کشتیوں پر مشتمل ہے ۔ پاکستان کے باقی صوبوں کو تو چھوڑ یے کہ جہاں عوام کو ایسی کسی سہولت کا کوئی تصور ہی نہیں ، پنجاب میں جہاں میٹرو سسٹم کچھ بڑے شہروں میں موجود ہے ، وہ اس سے کہیں کم تر درجے کا ہے۔

دنیا کے دیگر قدیم گنجان شہروں کی طرح استنبول میں بھی پارکنگ کے مسائل ہیں۔ اس لیے لوگ ذاتی گاڑیاں بہت کم استعمال کرتے ہیں، کیونکہ پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ اگر ملتی بھی ہے تو بہت دور دور گاڑیاں پارکنگ میں لے جانی پڑتی ہے۔
اس لیے زیادہ تر لوگ میٹروبس، ٹرین اور ٹرام ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہر ایک منٹ کے بعد میٹرو بس، ٹرین اور ٹرام میں سے کوئی نہ کوئی آجاتی ہے، اور یہ تینوں سروسز سرکاری اور سستی ہیں۔ پورے شہر میں آتی جاتی ہیں۔ لوگ پیدل بھی بہت چلتے ہیں شائید یہی وجہ تھی کہ میں نے موٹے لوگے بہت ہی کم دیکھے. سب سمارٹ...!

جیسے کہ سابقہ قسط میں زکر آیا تھا کہ آبنائے باسفورس استنبول کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے اسی طرح گولڈن ہارن(شاخ زریں) یورپی حصے کو دو حصوں میں تقسم کرتی ہے۔ جنوبی حصہ میں تقریباً تمام سیاحتی مقام ہیں جیسے کہ ابو ایوب انصاریؓ کا مزار۔ بلیو مسجد۔ توپ کاپی میوزیم آیا صوفیہ(Hagia Sophia) گرینڈ بازار اور دیگر ٹورسٹ اٹریکشنز جبکہ شمالی حصہ آبنائے باسفورس اور گولڈن ہارن کے درمیان ہے یہاں گلاطہ ٹاور۔ تاقسم اسکوائر۔ استقلال اسٹریٹ اور دولما باغچہ محل وغیرہ واقع ہیں۔ ان کی تفصیل آگے جا کر آئے گی۔ ان دونوں حصوں کو ملانے کے لیئے کل پانچ برج ہیں جیسے کہ گلاتا برج۔ میٹرو برج ٹرین کے لیئے اور اتا ترک برج وغیرہ۔ اگر آپ میپ دیکھیں تو کافی اندازہ ہو جائے گا۔

ہم نے گولڈن ہارن کو اتاترک برج کے ذریعے پار کیا۔ یہ پل تقریباً آدھا کلومیٹر لمبا ہے۔ ہمارا ہوٹل (ریڈیسن بلیو)”گولڈن ہارن“ کے پار دوسرے کنارے پر ایک چھوٹے سے موڑ کے بعد نسبتاً چڑھائ پر واقع تھا۔ ہوٹل کی بکنگ پہلے ہی آن لائن کرواچکے تھے سو کوئ پریشانی نہیں ہوئ. کمرے میں آئے فریش ہو کے نماز ادا کی اور دنیا دیکھنے نکل پڑے...

ہوٹل سے نکلے تو سوال یہ تھا کہ کہاں سے سٹارٹ لیا جائے. فیصلہ ہوا کہ حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری دی جائے. ہوٹل کے باہر سے ہی ٹیکسی مل گئ. جس سے 30 لیرا کرایہ طے ہوا. لیرا ترکی کرنسی ہے1 لیرا پاکستان کے 24 روپوں کے برابر ہے (اس وقت جب ہم گئے)۔ ٹیکسی واپس گولڈن ہارن کے پل (اتاترک برج) سے گزری جس پر تھوڑی دیر پہلے ہی ہم گزرے تھے اور دائیں جانب مڑ گئ۔ گولڈن ہارن کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی میں ترکی کی تاریخ کے بارے سوچ رہا تھا

وہ سرزمین جو تقریباً چھ سو سال تک اسلامی سلطنت کا مرکز رہی ہے ہم آج اسے ’ترکی‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک زمانہ تھاکہ یہ سلطنت چالیس ہزار مربع میل کے رقبے پرمشتمل تھی، عثمانی خلافت تاریخ اسلامی میں وسعت کے لحاظ سے وسیع ترین خلافت تھی۔ جن کی جاہ و جلال اور مذہبی رواداری اور عوامی فلاح و بہبود اور مملکت کے حسن انتظام کی گواہی پوری دنیا دیتی ہے.
جنگ عظیم اول کے بعد خلافت اندرنی کمزوریوں کے نتیجے میں بہت کمزور ہو چکی تھی اور اس کاخاتمہ مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھوں ہوا اور نتیجے میں جمہوریت آ گئ اور اس نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا جس کے بعد اسلامی قوانین تبدیل کردیے گئے، مگر الحمدللہ! آج پھر ترکی کے لوگ اسلامی نظام زندگی کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اب یہاں اسلام پسندوں کی حکومت ہے اور سیکولر جماعتیں انتخابات میں بری طرح شکست کھا چکی ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ !ترکی دوبارہ احیائے دین اور اسلام کی سربلندی میں اپنا کردارضرور ادا کرے گا۔

اس وقت ترکی نہ صرف اسلامی دنیا کی مضبوط ترین معیشت ہے بلکہ G20 کلب کا ممبر بھی بن چکا ہے۔ جہاں ہماری پی آئ اے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے وہیں ترکش ائیر لائین پچھلے تین سالوں سے مسلسل دنیا کی بہترین ائیر لائن کا اعزاز سمیٹ رہی ہے۔ عسکری اور دفاعی میدان ہو۔ تعلیمی میدان ہو۔ گاڑی سازی کی صنعت ہو الیکٹرک سامان ہو۔ کوڑے کی ریسائیکلنگ سے بجلی بنانا ہو الغرض ہر شعبے میں ترقی اب کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں اور تواور ورلڈ بنک کا تمام قرضہ اتار چکا ہے۔ بلکہ ورلڈ بنک کو قرضہ بھی دیا۔ امت مسلمہ کو کوئ بھی مسئلہ درپیش ہو جیسے کہ موجودہ حالات میں یروشلم کامعاملہ ہو. برما کا معاملہ ہو یا پھر بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکن کی پھانسی کا معاملہ. جہاں نام نہاد دیگر اسلامی حکومتیں خاموش ہوں ترکی کا کردار نمایاں نظر آتا ہے.یہاں کی حکومت عوام میں بہت مقبول ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جب آمریت نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو ترک عوام ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور ایک ہمارا ملک ہے جس میں ایسا ہو تو بہت سے لوگ شائد مٹھائیاں بانٹتے نظر آئیں۔

تقریبا بیس منٹ میں ٹیکسی نے ہمیں مزار کے باہر اتار دیا۔ مزار کے باہر بہت بڑا احاطہ ہے جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں. مزار کے بلکل سامنے مسجد بھی ہے۔ یہاں لوگوں کا بہت رش ہوتا ہے بلکل پکنک کا سماں.

یہ علاقہ مشرق اور مغرب کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو مغرب کا گورا رنگ نیلی اور سبز آنکھیں اور مشرق کے نقوش ملے۔ مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج ۔۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جو دلکشی اور کشش ترکش باشندوں میں ملے گی وہ سفید چمڑی والے انگریزوں میں نہی۔ یہاں کی خواتین کی بھی دو قسمیں دیکھنے کو مل رہی تھیں۔ یا تو عبایا اور سکارف میں ملیں گیں یا پھر سکن ٹائٹ جینز اورٹی شرٹ میں بغیر ڈوپٹہ کے ہماری طرح نہیں کہ
"آدھا تیتر آدھا بٹیر"

مزار کے اندر جانے کے لئیے جوتوں کے لئیے شاپر باہر موجود تھے.اس میں جوتے ڈالے اور ساتھ لے لئیے. مزار پر کافی لوگ تھے. زائرین عقیدت سے سر جھکائے سلام پیش کرتے چلے جا رہے تھے۔ کیا مقام ہے کیا ہستی ہیں۔ روضہ صحابی رسول ؐکے سامنے کھڑے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی۔ میرے پاس کوئی دولت نہیں جو اس ہستی کے قدموں میں نچھاور کر سکتا بجز ندامت کے آنسوئوں کے۔ عشق کی عملی مثال تو ہمارے سامنے تھی اور ایک ہم ہیں کہ آقا ﷺ کی سنتوں کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ سنت ہی ہے نہ فرض تو نہی ہے۔ عمل اور عشق کی بھٹی تو یہ لوگ ہیں۔ آقاؐ کے ان محبوب صحابی میزبان رسول اللہ ﷺ کو بھی جنت میں جانے کا شبہ ہو سکتا تھا؟ جنت کا مالک خود ان کے گھر میں سات ماہ مہمان رہا۔ دونوں جہاں کا سردار ابو ایوب انصاریؓ کو میزبانی کی سعادت عطا فرما رہا تھا۔ جنت جس کے گھر خود چل کر آئے انہیں نبیؐ کا شہر چھوڑ کر بڑھاپے میں چھ ماہ کے سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے کون سی طاقت تھی جو قسطنطنیہ لے آئی؟ وہ طاقت نبی کریمؐ کایہ فرمان مبارک تھا ’’کیا کمال ہو گا مسلمانوں کا وہ لشکر جو قسطنطنیہ (استنبول) فتح کرے گا۔ اوراس فتح میں شامل لشکر کو جنت کی بشارت دی۔ حضورؐ کا یہ فرمان مسلمانوں کے لئے خوش نصیبی کی علامت بن گیا۔ یہاں تک کہ ایک ناکام لشکر میں شامل بزرگ صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی شامل ہو گئے۔ قسطنطنیہ دوران جنگ جب زخموں سے چوُر ہو گئے (بعض روایات میں وبا تے فوت ہوئے) تو فرمائش کی کہ انہیں اس شہر کی پناہ گاہ کے قریب ترین جا کر دفن کیا جائے۔ اس وقت یہ مقام دیوار قسطنطنیہ کے نام سے مشہور تھا۔ نبی کریمؐ کی مدینہ منورہ میں میزبانی کے شرف سے نوازے جانے والے عاشق رسولؐ کا مزار آج بھی برکات کا مظہر ہے

ہم نے آپ کے درجات کی بلندی کی دعا کی یہاں بہت سے لوگ ہونے کے باوجود خاموشی اور عجیب سا سکون تھا۔ ماحول وجد میں ڈوبا ہوا تھا۔ کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے. کچھ لوگ دعا مانگ رہے تھے۔ میں نے پاکستان
میں بہت سے مزارات پر جو شرکیہ افعال دیکھے وہ یہاں نہیں تھے۔

ہم چلتے چلتے مزار کی پچھلی طرف نکل گئے۔ یہاں بہت بڑا قبرستان تھا۔ ایک طرف کو ڈھلوانی راستہ قبرستان کے ساتھ ساتھ اوپر کو جا رہا تھا ہم اسی راستے کو فالو کرتے ہوئے اوپر آگئے۔ یہاں بہت سی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں یہی راستہ گھوم کر مزار کے احاطے میں آجاتا ہے۔ یہاں کھانے پینے کے بہت سے اسٹالز تھے اور وہاں سے آتی کھانوں سے اٹھتی خوشبو نے دیا بھوک کو چمکا دیا تھا۔ کھانے میں بہت سی آپشنز تھیں لیکن ہم نے شوارما پسند کیا اور ساتھ منرل واٹر لے کر قریبی بینچ پر بیٹھ گئے۔ کم پیسوں میں عمدہ کھانا تھا۔ اب ہماری منزل سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد تھی۔ ہم وہیں پر آگئے جہاں ہمیں ٹیکسی نے ڈراپ کیا تھا۔ یہاں ٹیکسیاں لائین میں کھڑی اپنی اپنی باری پر روانہ ہو رہیں تھیں۔ہم ابھی یہیں کھڑے تھے کہ عصر کی آذان سنائ دی تھوڑی حیرت بھی ہوئ جب موزن نے آذان سے پہلے درود و سلام پڑھا۔ ہم بھی ایک ٹیکسی میں بیٹھے اور روانہ ہو گئے۔


جلد ملیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔(انشاء اللہ)

Sunday, January 27, 2019

سفرنامہ برائے استنبول ترکی - پہلی قسط

safarnama turkey travel guide - nazwrites

اس سے پہلے کہ ہم سفر نامہ شروع کریں میں آپ دوستوں کا بہت مشکور ہوں جنہوں نے پہلے سفر نامے کو پسند کیا اور 
میری ہمت بڑھائ اور میں یہ سفر نامہ لکھنے کی ہمت کر سکا۔ اس سفر نامے سے آپکو جہاں استنبول کے بارے معلومات ملیں گیں وہیں کچھ ھدایات کچھ مشورے بھی ملیں گے اور اگر کوئ دوست مستقبل میں جانا چاہتا  ہو تو یہ تحریر ان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ 
آپکے فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

 facebook.com/Sajid-Chaudharys-Travel-Directory : میرا فیس بک پیج

اسلام علیکم دوستو...!
ترکی کیونکہ اسلامی تعلیمات اور ثقافت کا امین رہا ہے اس لیے وہاں جانے کی تمنا دل میں تھی۔ جب یہ موقع ملا تو میں بہت Exited تھا۔ پی ائ اے کی فلائٹ سے کراچی پہنچا. ائیر پورٹ سے باہر آئے تو رات کے سوا نو بج چکے تھے. ایک دوست پہلے ہی ائیرپورٹ پر موجود تھا. اس کے ساتھ کراچی کی سڑکیں ناپیں. پھر رات ایک بجے میکڈونلڈ سے ڈنر کیا. تھوڑی دیر بعد کراچی سے جانے والے ساتھی خالد صاحب اور نجم صاحب بھی پہنچ گئیے۔ ہماری ٹیم خالد صاحب کی کپتانی میں ائیرپورٹ میں داخل ہوئے بیگز جمع کروائے بورڈنگ پاس مل چکے تھے۔ ابھی فلائٹ میں ابھی کافی ٹائم تھا تو CIP لونج سے بہتر کوئ جگہ نہیں تھی۔ چائے کے ساتھ سنیکس لیئے اور آنے والے وقت کی پلانگ کرنے لگے۔

ہم جہاز میں اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے اور میں حسب عادت سفر کی دعائیں پڑھنے میں مشغول تھا۔  میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ترکی دیکھنے جارہا تھا۔ہم نے جانا تو لندن تھا لیکن درمیان میں تین دن استنبول رکیں گے۔ ترکش ایرلائن کاجہاز TK0709 اُڑنے کو تیار تھا۔ طیارے کے عملے کی جانب سے حفاظتی تدابیر اناﺅسمنٹ کی جارہی تھیں۔ میں ابھی مسنون دعائیں پڑھنے میں مصروف تھا۔

ترکش ایرلائن کے جہاز نے رَن وے پر دوڑنا شروع کردیا۔ تمام مسافر بیلٹ باندھ کرخاموش تھے۔ اکثر مسافر دل ہی دل میں دعائیں اور آیة الکرسی وغیرہ پڑھتے محسوس ہورہے تھے، ٹیک آف کے بعد جہاز جیسے ہی ہموار ہوا۔ 
قدرے بلندی پر پہنچا تو جہاز کے اندر کا ماحول خوشگوار ہوگیا۔ مسافروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھرنے لگیں۔

" ہم 30 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوۓ چھ گھنٹے میں استنبول کے کمال اتاترک ہوائی اڈے پر اتریں گے "- جہاز میں اعلان ہو رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اتنا وقت کیسے گزرے گا- تھوڑی دیر میں ہی ناشتہ سرو کیا گیا۔

زندگی بھر مجھ میں موجود بیشمار خامیوں میں سے ایک ساختیاتی خامی جو رہی ہے کہ دوران سفر نیند نہیں آتی یا پھر بہت کم - میرے ساتھی خالد صاحب اور نجم صاحب سیٹ کو ایڈجسٹ کر کے آنکھیں بند کر چکے تھے باقی مسافر حضرات جہاز کی مدھم ہوتی روشنیوں کے ساتھ ہی مدہوش ہو گئے - جیسے جیسے جہاز بلندی کی جانب بڑھتا گیا ، کھڑکیوں کے پردے گرا دیے گئے۔
بوریت دور کرنے کے لیئے میں نے ہینڈ کیری سے ترکی کے بارے کتاب نکالی اور پڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔

ترک سلطان کمال لوگ تھے‘ یہ لڑتے تھے تو کمال کر دیتے تھے‘ امن میں آتے تو بھی کمال کر دیتے تھے‘ سلطنت عثمانیہ کے ساتویں حکمران سلطان محمد نے 1453ءمیں استنبول فتح کر کے بھی کمال کر دیا‘ یہ شہر ویٹی کن سٹی کے بعد عیسائیوں کا مقدس ترین شہر تھا‘ آیا صوفیہ عیسائیوں کا دوسرا مقدس چرچ تھا۔۔۔۔استنبول قسطنطنیہ کہلاتا تھا اور قسطنطنیہ ہزار سال تک ناقابل تسخیر رہا‘ شہر کے دفاع کی بڑی وجہ اس کا جغرافیہ تھا‘ یہ شہر دو سمندروں کے درمیان پہاڑ کی چوٹی پر آباد تھا‘ شہر تک پہنچنے کا واحد راستہ باسفورس اور باسفورس کے پانیوں سے نکلا ہوا گولڈن ہارن تھا‘ گولڈن ہارن پانی کی ساڑھے سات کلو میٹر لمبی باریک پٹی ہے‘ یہ پٹی بلندی سے سینگ کی طرح دکھائی دیتی ہے اور اس وجہ سے گولڈن ہارن کہلاتی ہے‘استنبول کے بازنطینی حکمرانوں نے گولڈن ہارن میں لوہے کی مضبوط زنجیر بچھا رکھی تھی‘ یہ لوگ زنجیر کھینچ دیتے تھے‘ جہاز رک جاتے تھے اور یہ بعدازاں گولڈن ہارن میں آتش گیر مواد ڈال کر پانی کو آگ لگا دیتے تھے‘ جہاز جل کر راکھ ہو جاتے تھے‘ترک یہ شہر فتح کرنا چاہتے تھے‘ کیوں کرنا چاہتے تھے اس کی وجہ حدیث مبارکہ تھی‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا تھا‘ میری امت کا جو شخص قسطنطنیہ فتح کرے گا وہ جنتی ہو گا ‘ ترک یہ سعادت حاصل کرنا چاہتے تھے‘ سلطان محمدفروری 1451ءمیں19سال کی عمر میں خلیفہ بنا تو ترک سلطانوں کی یہ خواہش اسے ورثے میں مل گئی‘اس نے 1453ءمیں استنبول کا محاصرہ کیا اور دنیا کی تاریخ میں عجیب کمال کر دیا‘ سلطان محمد نے ہزاروں درخت کٹوائے‘ درختوں کے تختے بنائے‘ تختوں پر جانوروں کی چربی چڑھائی‘ بحری جہاز تختوں پر رکھے‘ ہزاروں لوگوں نے یہ جہاز کھینچے‘ دھکیلے اور سلطان محمد بحری جہازوں کو پہاڑ کے اوپر سے دھکیل کر سمندر تک لے آئے‘ استنبول کے لوگ اگلی صبح جاگے تو وہ گولڈن ہارن میں جہاز دیکھ کر حیران رہ گئے‘ سلطان نے29مئی 1453ءکو شہر کو فتح کیا اور تاریخ میں سلطان محمد فاتح بن گیا‘ استنبول میں آج بھی سلطان فاتح اور ان کی ملکہ گل بہار کا مزار موجود ہے‘ ترکوں نے ایک کمال مسجد مزار کا کمبی نیشن بنا کر بھی کیا ‘ ترک سلطان زندگی میں ایک شاندار مسجد بنواتے تھے‘ مسجد کی دیوار کے ساتھ اپنا مزار اور اپنے خاندان کا خصوصی قبرستان بنواتے تھے اور انتقال کے بعد مزار میں دفن ہو جاتے تھے‘ مساجد اللہ کے گھر ہوتی ہیں‘یہ ہمیشہ قائم رہتی ہیں اور اللہ کے گھروں کے استحکام کی وجہ سے ترک سلطانوں کے مزارات بھی آج تک سلامت ہیں‘ سلطان فاتح کا مزار بھی فاتح مسجد کے ساتھ واقع ہے۔

میرے ذہن کے نہاں خانوں پر تاریخ کے یہ ورق گردش کررہے تھے کہ نجانے کب آنکھ لگ گئی۔ ترکش ایرلائن کی ایرہوسٹس کی آواز سے آنکھ کھلی کہ بیلٹ باندھ لیں۔ جہاز تھوڑی دیر میں استنبول ایرپورٹ پر لینڈ کرنے والا ہے۔ 
یہ تقریباً چھ گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھ بجے کراچی ایرپورٹ سے جہاز اُڑا تھا۔ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر کے بارہ بجے تھے۔ ہم چونکہ مغرب کی طرف آئے تھے اسی لیے یہاں کا ٹائم زون پاکستان سے دو گھنٹے پیچھے ہے اور یہاں دس بجے تھے

لمحہ بہ لمحہ جہاز کی بلندی کم ہورہی تھی۔ دور سے نظر آنے والی چیزیں بدستور بڑی ہوتی اور پھیلتی گئیں۔ ان میں چھپی ہوئی قدرت کی خوبصورتیاں اور رعنائیاں نمایاں ہوتی چلی گئیں۔ اب ہم بحیرہ مرمرہ کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔ ایک طرف سمندر کا نیلا پانی اور دوسری طرف سر سبز پہاڑ۔ یہ پہاڑ عین ساحل پر واقع تھے۔ میری زاتی رائے میں سمندر خشکی کے ساتھ ملاپ سے ہی خوبصورت لگتا ہے۔ ورنہ اس کی یکسانیت سے انسان بور ہو جاتا ہے۔

ترکش ایرلائن کا بڑا جہاز استنبول شہر کے اوپر چکر کاٹ رہا تھا۔ اوپر سے استنبول شہر بڑا ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ جہاز نے پہلے ایک لمبا سا چکر کاٹا۔ پھر ترچھا ہوا۔ رفتہ رفتہ زمین کے قریب تر ہوتا چلاگیا۔ اناﺅنسر نے اناﺅسمنٹ کی کہ ہم استنبول ایرپورٹ پر لینڈ کررہے ہیں۔ چند ہی لمحوں کے بعد طیارے کے ٹائروں نے رن وے کو چھو لیا۔ ایک ہلکا سا جھٹکا لگا اور ہمارا جہاز استنبول کے ہوائی اڈے پر اُترگیا۔ 
میں نے دور سے دیکھا تو اس ایرپورٹ کی عمارت پر ”مصطفی کمال اتاترک ایرپورٹ“ لکھا ہوا نظر آیا۔ یہ بہت بڑا ایرپورٹ معلوم ہورہا تھا۔ ایرپورٹ پر طیارے ہی طیارے کھڑے تھے۔ 
دنیا بھر کی ایرلائن کے طیارے تھے۔ معلوم ہو اکہ استنبول ایرپورٹ دنیا بھر میں جانے والوں کے لیے جنکشن شمار ہوتا ہے۔ یہاں سے پوری دنیا میں فلائٹیں جاتی اور آتی ہیں۔ یہ جدید انداز کا خوبصورت ایرپورٹ تھا۔ ان ہی دنوں استنبول میں کوئ کانفرنس ہو رہی تھی جس میں اسلامی ممالک کے سربراہان کی آمد کی وجہ سے اور سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے بھی ہمارا جہاز ٹرمینل سے دور کھلے میدان میں کھڑا تھا سیڑھی لگائ گئ اور جہاز کا دروازہ کھل گیا۔ باہر نکلے تو شدید ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے استقبال کیا حالانکہ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہینڈکیری سے جلدی سے گرم ٹوپی نکال کر پہنی۔ ہمیں بس کے ذریعے لابی تک پہنچایا گیا۔

ہم نے ترکی کے لیئے آن لائن ویزہ اپلائ کیا تھا اور یہاں وہ Documents دکھا کر پاسپورٹ پر ویزہ اسٹیمپ ہونا تھا۔ جب کاغذات دیکھے گئے تو پتہ چلا کہ میں تو کوئ غیر ضروری پیپر اٹھا لایا ہوں اور ضروری پیپر بھول آیا ہوں۔ موبائل سے ضروری پیپر کی تصویر مل گئ اور یوں امیگریشن کے معاملات نمٹ گئے اور انٹری کی مہر لگاکر پاسپورٹ واپس کردیا۔ موبائل فون کے نقصانات اپنی جگہ لیکن آج تو اس نے بہت بڑی پریشانی سے بچا لیا تھا۔

استنبول ایرپورٹ کے اندر ہم ”کنویئر بیلٹ“ کی طرف آگئے۔ یہاں پر تاحدِ نگاہ کنویئر بیلٹس دکھائی دے رہے تھے۔ ایک جگہ ہماری فلائٹ کا نمبرجگمگا رہا تھا ، چنانچہ ہم سامان اٹھانے والی ٹرالی لے کر کھڑے ہوگئے۔زیادہ انتظار نہی کرنا پڑا اور سامان آنا شروع ہوگیا۔ تیسرے نمبر پر میرا بیگ تھا۔ ہم سامان لے کر باہر نکل رہے تھے کہ میں نے اپنے ہمسفر خالد صاحب سے پوچھا کہ یہ ایرپورٹ استنبول کے کون سے حصے میں واقع ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جو دنیا کے دو براعظموں میں واقع ہے۔ استنبول کا ایک حصہ براعظم ایشیا میں ہے اور استنبول کا دوسرا حصہ براعظم یورپ میں ہے، اور ان دونوں حصوں کے درمیان ”آبنائے باسفورس“ بہتی ہے۔ جو بخیرہ مرمرا (Marmara Sea) کو بخیرہ اسود (Black Sea) سے ملاتی ہے

خالد صاحب نے بتایا کہ یہ ایرپورٹ استنبول کے یورپی حصے میں واقع ہے، اور جہاں ہمارا قیام ہوگا، وہ جگہ بھی اس کے یورپی حصے میں ہی ہے۔ میرے منہ سے فوراً نکلا: ”گویا ہم اس وقت یورپ میں کھڑے ہیں۔“

نقشہ ملاحضہ کیجئے جس میں تفصیل سے سب جگہوں کی نشاندھی کی گئ ہے۔
سفر نامہ برائے ترکی استنبول
اپنی آرا اور کمنٹس بھیجنا مت بھولیے گا - اتنی محنت سے اگر پوری قسط پڑھتے ہیں تو دو چار جملے کومنٹس میں بھی 
لکھ دیا کریں


جلد ملاقات ہو گی۔۔۔۔(انشاء اللہ)
(فیس بک پیج ساجد چوھدری  پر  میرےمزید سفر نامے بھی پڑھ سکتے ہیں۔)

Monday, January 21, 2019

گوگل ایڈسنس کا اپروول حاصل کریں


گوگل کی شروعات ایک ویب سرچ انجن کے طور پر ہوئی۔ بعدمیں گوگل نے وہ تمام ہی سہولیات فراہم کرنا شروع کردیں جو ایک عام صارف کی ضرورت ہے انہیں میں سے ایک گوگل ایڈسنس ہے۔ گوگل ایڈسنس کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر اشتہار لگا کر پیسے کما جاسکتے ہیں۔ بہت لوگ دہائیوسے  کما رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ محنت اور مستقل مزاجی کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

 یہ بات عام ہونے پر گوگل نے بھی اپنی قواعد و ضوابط میں سختی کردی ہے۔لیکن اگر کسی کو   مکمل طورپر اُن سب باتوں کا علم ہو جو کہ گوگل ایڈسنس لینے سے پہلے آپ کو معلوم ہونی چاہیے اور آپکی ویب سائٹ میں موجود ہونی چاہیے تو اس کو گوگل ایڈسنس لینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی ۔
اس بات کا اندازہ آپ سوشل میڈیا پرروزانہ  کثیرتعداد ایڈسنس اکاؤنٹس بیچنے  والوں کی پوسٹ دیکھ کر کر سکتے ہیں ضروری نہیں کہ سوشل میڈیا پوسٹ میں  مکمل سچائی بھی ہو مگر ہاں، اگر کسی کو مکمل طریقہ کار  کا علم ہو جاتا ہے تو اس کے لئے ایڈسنس سے لینا کوئی بڑی بات نہیں۔


خیر بنیادی باتوں کا تو آپ کو علم ہوگا ، اب چلتے ہیں اصل حقیقت کی طرف کے آخر کون سے وہ اصول ہیں جو گوگل
ایڈسنس سے پر اپلائی کرنے سے پہلے ہماری ویب سائٹ میں ہونا ضروری ہیں۔


میری ذاتی رائے یہ ہے کہ گوگل ایڈسینس پر انحصار کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ خود سے آنلائن شاپ(ای-کامرس سٹور) سے پیسہ کمائے جو انٹرنیٹ پر پیسے کمانے کا بہترین طریقہ اور ذریعہ ہے۔ اس بارے میں کسی اور آرٹیکل میں تفصیل سے بات ہوگی۔


میں آپ کو ادھر وہ تمام باتیں مختصر کرکے بتانا چاہوں گا جو ایڈسنس اپروول کے وقت درکار ہو تی ہیں:


1۔ آپ کی تاریخ پیدائش 18 سال یا اس سے اوپر ہونا ضروری ہے۔

2۔ معیاری مواد: (Genuine & Quality Content) آپ کی ویب سائیٹ پر ہونابے حد ضروری ہے تاکہ اگر کوئی آپ کی ویب سائیٹ پرغلطی سے آبھی جائے  تو کم ازکم 2 سے 4 منٹ ضرور ٹھہرے۔  اگلے مراحل میں جا کر یہ چیز ایس ای او (SEO) میں بھی بہت فائدہ دیتی ہے۔

3۔ آپ کی ویب سائٹ میں مندرجہ ذیل مین پیجز (Main Pages) کا ہونا بھی بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی ویب سائٹ معیاری محسوس ہو۔ جن میں رابطہ (Contact us)،  ہمارے بارے میں(About us)، پرائویسی پالیسی (Privacy Policy)، ,  قواعد و ضوابط (Terms & Conditions) شامل ہیں۔


4۔ جب آپ اپنا گھر کا پتہ ایڈسینس اکاؤنٹ میں لکھنے لگیں تو اس بات کی یقین دہانی کر لیں کہ آپ نے بالکل صحیح ایڈریس درج کیا ہے کیونکہ ایڈسنس آپ کے اسی ایڈریس پر ایک پن بھیجے گا جو کہ  رقم نکلواتے وقت آپ کو اپنے  ایڈسنس اکاؤنٹ میں درج کرنی ہوگی۔ 

5۔ گوگل اینالائیٹکس اور ویب ماسٹر اکاؤنٹ : آپ کے پاس ہونا لازمی ہے۔ جس پر آپ کی سائٹ کی انٹری موجود ہو اور سائٹ میپ بھی اچھے طریقے سے گوگل ویب ماسٹر اکاؤنٹ میں سبمٹ کیا گیا ہو۔ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گوگل ایڈسنس پر اپلائی کرنے سے پہلے  آپ کے تھوڑے بہت آرٹیکل گوگل ویب ماسٹر اکاؤنٹ میں انڈیکس ہوچکے ہیں۔


6۔ درست پیج نیویگیشن : (Proper Navigation) آپ کی ویب سائٹ میں ہونا بہت اہم ہے۔ ایڈسنس ایسی ویب سائٹ کو ناپسند کرتا ہے جس سائٹ کے پیج نیویگیشن میں مسئلہ ہو۔ ساتھ میں اس بات کو بھی مدِ نظر رکھیں کہ آپ کے ویب سائٹ کی "تمام کیٹگری اور پیجز میں کچھ پوسٹ ضرور موجود ہوں" ۔

7۔ پیج ہیڈر اور فوٹر میں بھی ایک نظر ڈالیں اور ممکن ہو تو اپنے مین پیجز ، سرچ بار ، کمپنی لوگو وغیرہ کو فوٹر میں بھی لنک کریں تاکہ صارفین آپ کی پرائیویسی پولیسی و دیگر تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ 


8۔ اگر دوسری کسی کمپنی کے اشتہار ویب سائٹ پر استعمال کر رہے ہیں تو ان تمام  کو سائٹ سے ہٹانا نہ بھولیں۔


9۔  ویب سائٹ کی اوپٹمائیز کریں: (Optimize your website) گوگل جلد لوڈ ہو جانی والی ویب سائٹ کو پسند کرتا ہے ،  یہ ضرور چیک کرلیں کہ آپ کی ویب سائٹ موبائل فرینڈلی اور ریسپانسو(Responsive) ہے اور تمام ڈیوائس جیسے کہ ٹیبلٹ ، موبائل فون وغیرہ پر مکمل  نظر  آرہی ہے۔ اور کوشش کریں کہ آپ ایک بار ویب سائٹ سپیڈ چیکر سے اپنی ویب سائٹ کی سپیڈ کو گوگل کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق  کرلیں۔ گوگل کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق %53 صارفین آپ کی ویب سائٹ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اگر ویب سائٹ لوڈ ہونے میں 3 سیکنڈ سے زیادہ وقت لیتی ہے۔ 


10۔ گوگل ایڈسنس پر اپلائی کرنے سے پہلے کوشش کریں کہ اپنا ای میل ایڈریس پروفیشنل لے لیں۔ مثال کے طور پر (name@yourwebsite.com)۔ اگر  ہوسکے تو یہ کام بھی کرلیں نہیں تو آپ جی میل میں اپنی ویب سائٹ سے ملتا جلتے نام کا ای میل بنا کر اپلائی کر سکتے ۔  زیادہ تر لوگ اس کے بغیر بھی اپلائی کرتے ہی ہیں اور کامیاب رہتے ہیں لیکن  ان کی اپنی ویب سائٹ نہایت معیاری اور پروفیشنل ہوتی ہیں ۔

گوگل ایڈسنس پر اپلائی کرنے سے پہلے مواد پر ایک نظر:

مواد کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایڈسنس کونسے ٹوپکس یا کیٹیگری کی ویب سائٹ کو ناپسند کرتا ہے، آپ کی سائٹ پر کاپی کیا گیامواد (بشمول تصویریں) ،  ہیکنگ کرینکنگ ،چوری ڈکیتی،غیرقانونی منشیات فروشی اور فحاشی سے متعلق مواد ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
 ویب سائیٹ ایڈسنس کی قبول کرده   زبانوں میں سے ایک زبان میں ہونا ضروری ہے۔ کونسی زبان ایڈسنس قبول کرتا ہے اس ربط پر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔

اضافی مفیدمشورے :

اپلائی کرنے سے پہلے کچھ چیزیں اپنے دماغ میں رکھیں، اس بات کو یقینی بنائیں جو نام آپ گوگل ایڈسنس اپلائی کرتے وقت دے رہے ہیں اس نام کا  قومی شناختی کارڈ موجود ہے۔فارم کو بھرتے وقت آپ کا مقصد  بالکل صحیح معلومات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ 

کوشش کریں گے آسانی سے سمجھ میں آنے والا اڈریس درج کریں۔ جیسا کہ شروع میں مکان نمبر گلی نمبر ایریا کوڈ پوسٹل کوڈ شہر غیرہ  یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ جو بھی ایڈریس آپ درج کریں بس وہ ایسا ہو  کے آپ کےشہر کے  پوسٹل سروس کی سمجھ میں آسکے، کیونکہ آپ کے علاقے کی پوسٹل سروس کے زریعےہی  گوگل کی طرف سے پن بھیجی جاتی ہے اور آپ کے بتائے ہوۓ پتے پر موصول ہوتی ہے۔

امید کرتا ہوں کہ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کسی بھی ویب سائٹ کے لیے ایڈسنس اکاؤنٹ حاصل کرسکیں گے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی ٹپس موجود ہے جو کہ ایڈسنس اکاؤنٹ حاصل کرتے  وقت آسانی کا سبب بنتی ہے  تو کمنٹ کرکے ہمارے علم میں اضافہ کریں، اور اگر کچھ پوچھنا یا اس تحریر کے بارے میں رائے دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی ضرور کمنٹ کریں۔